19 اپریل 2013 - 19:30

آل سعود حکومت کی جانب سے شام میں بشار اسد حکومت کے خلاف سرگرم القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کی حمایت ، ان کی مالی اور عسکری پشتپناہی نیز اُن کے حق میں تشہیری مہم ایک ناقابل تردید حقیقت کے بطور فی الوقت بین الاقوامی ماہرین کی توجہ کا مرکز ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے شعبہ میں سرگرم بہت سے مبصرین اس نتیجہ تک پہونچ چکے ہیں کہ سعودی عرب ایک خطرناک کھیل کھیل رہا ہے۔

ابنا: آل سعود حکومت کی جانب سے شام میں بشار اسد حکومت کے خلاف سرگرم القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کی حمایت ، ان کی مالی اور عسکری پشتپناہی نیز اُن کے حق میں تشہیری مہم ایک ناقابل تردید حقیقت کے بطور فی الوقت بین الاقوامی ماہرین کی توجہ کا مرکز ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے شعبہ میں سرگرم بہت سے مبصرین اس نتیجہ تک پہونچ چکے ہیں کہ سعودی عرب ایک خطرناک کھیل کھیل رہا ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوز نور کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سرکاری اور غیرسرکاری دونوں لحاظ سے شدت پسند گروہوں کی تمام تر ضروریات پوری کررہا ہے۔ شام میں شورش کی ابتداء ہی یہ سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور اب کچھ عرصہ سے اِس میں مزید شدت آ گئی ہے۔

واضح طور پرالقاعدہ سے وابستہ جبہۃ النصرہ نامی عسکری تنظیم ہی حقیقت میں شام حکومت کے خلاف برسرپیکار ہے۔دوسری جانب سعودی عرب کی میڈیا خاص طور پر العربیہ نیوز چینل شدت پسندوں کی مکمل حمایت کرتا اور حکومت کے ساتھ مذاکرات مسترد کرتے ہوئے لیبیا سے قذافی کی بے دخلی کے طرز پر شام کے اندرونی معاملات میں اغیار کی مداخلت اور نیٹوکاروائی کوہی شامی عوام کی حمایت اور اِس ملک میں پیدا شدہ بحران کا واحد حل مانتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد جن شدت پسند تنظیموں کے خلاف سخت جاسوسی اور عسکری کاروائیاں عمل میں لائی گئی تھیں وہ اب سعودی عرب اور قدرے مخفیانہ طور پر کی جا رہی ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حمایت شام میں اکٹھا ہو کر اپنے ٹھکانے بنا رہی ہیں۔ یہ معاملہ اس لحاظ سے مزید غورطلب ہے کہ اگر جبہۃ النصرہ اسد حکومت کے خلاف اپنی کاروائیوں میں کامیاب ہو جاتی ہے تو شام القاعدہ سے وابستہ دہشت گردوں کی جنت بن جائے گا۔

سعودی عرب کی جانب سے اِس طرح کی تنظیموں کی مکمل حمایت سے آل سعود حکمرانوں کو کچھ عرصہ کے لئے ممکنہ طور پر خاطر خواہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں ۔جبکہ حالیہ ایام میں اُنہیں اِس حد تک بھی کامیابی نہیں ملی ہے اور اسدحکومت ہر طرح کے حملہ کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے۔تاہم اُن کے اِس عمل کا انجام سعودی عرب کے لئے ایک تاریخی سانحہ ثابت ہو گا ۔ اس لئے کہ مذکورہ تنظیموں کا اصل مقصد سرزمین حجاز کو آل سعود کے قبضہ سے آزاد کرانا ہے۔

اسی سلسلہ میں دہشت گرد القاعدہ نیٹ ورک کے سرغنہ ایمن الظواہری نے اسدحکومت سے لڑ رہے شامیوں سے کہا ہے کہ ’’خلافت کی بازگشت‘‘ کے طور پر شام میں اسلامی حکومت قائم کریں۔ انٹرنیٹ پر شائع کردہ اپنے پیغام میں ظواہری نے اپنے مخاطبوں کو امریکی سازشوں، عرب ملکوں، شام میں اقوامی متحدہ کے سفیر اخضر ابراہیمی اور عرب لیگ کے سربراہ نبیل عربی سے جو کہ اُس کے بقول مسلح افراد کی قربانیاں چرانا چاہتے ہیں، ہوشیار رہنے کو کہا ہے۔

اِس بات سے مزید واضح ہو جاتا ہے کہ اگرچہ فی الوقت اِن دہشت گرد تنظیموں نے اسد حکومت کے خلاف سعودی عرب سے ہاتھ ملا لیا ہے لیکن ان کا اصل مقصد شام کو اپنا محفوظ ٹھکانہ بنا کر اپنے قریبی دشمن یعنی آل سعود اور دور کے دشمن یعنی امریکہ کے خلاف لڑنا ہے۔ شام میں کامیابی کی صورت میں القاعدہ کا اگلا ہدف سعودی عرب کی سلامتی کو زک پہونچانا ہوگا۔ جس کی ماضی کی مثالیں موجود ہیں؛ گذشتہ دہائی میں القاعدہ سعودی عرب میں کئی خونریز کاروائیاں کر چکی ہے۔

خود ریاستہائے متحدہ امریکہ بھی اسی نوعیت کے تجربہ سے گذر چکا ہے۔ افغانستان میں سوویت یونین کا اثر و رسوخ روکنے کے لئے وہائٹ ہاؤس نے طالبان کی ایجاد کی ۔جس نے بعد میں ایسے درندہ کی شکل اختیار کی جس کے پنجوں سے امریکہ کا چہرہ بھی نہ بچ سکا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آل سعود حکمرانوں کی آج کی اسٹریٹیجک غلطی عنقریب انہیں اپنے ہی کھودے گڑھے میں ڈال دے گی۔ دراصل سعودی عرب آج جو تلوار شام کے خلاف صیقل کر رہی ہے وہ کل اُسی کا سینہ چیرڈالے گی۔

.......

/169